کاہلی
کاہلی
سر سید احمد خاں
سر سید احمد خان کا مضمون "کاہلی" کا خلاصہ
سر سید احمد خان کا مضمون "کاہلی" ایک اہم معاشرتی مسئلے پر تبصرہ کرتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کاہلی صرف ہاتھ پاؤں کی محنت نہ کرنا نہیں ہے بلکہ دماغی اور ذہنی طور پر بھی غیر فعال رہنا ہے۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ جو لوگ اپنے ذہنی قوی کو استعمال نہیں کرتے وہ حیوانوں کی طرح بن جاتے ہیں۔
سر سید کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں بہت سے لوگ ہیں جن کے پاس اپنے ذہنی قوی کو استعمال کرنے کے مواقع نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس تعلیم اور روزگار کے مواقع نہیں ہیں۔ تاہم، وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ لوگوں کو اپنی کاہلی کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور نئے مواقع تلاش کرنے چاہئیں۔
سر سید کا یہ بھی خیال ہے کہ قوم کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ اس کے افراد ذہنی طور پر فعال ہوں۔ وہ لوگوں کو حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ علم حاصل کریں اور سماجی مسائل کے بارے میں سوچیں۔
مضمون کے اہم نکات
کاہلی صرف ہاتھ پاؤں کی محنت نہ کرنا نہیں ہے بلکہ دماغی اور ذہنی طور پر بھی غیر فعال رہنا ہے۔
جو لوگ اپنے ذہنی قوی کو استعمال نہیں کرتے وہ حیوانوں کی طرح بن جاتے ہیں۔
ہندوستان میں بہت سے لوگ ہیں جن کے پاس اپنے ذہنی قوی کو استعمال کرنے کے مواقع نہیں ہیں۔
لوگوں کو اپنی کاہلی کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور نئے مواقع تلاش کرنے چاہئیں۔
قوم کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ اس کے افراد ذہنی طور پر فعال ہوں۔
مضمون کی اہمیت
سر سید احمد خان کا مضمون "کاہلی" ایک اہم معاشرتی مسئلے پر ایک اہم تبصرہ ہے۔ یہ مضمون آج بھی اتنا ہی متعلقہ ہے جتنا کہ اس وقت تھا جب یہ لکھا گیا تھا۔ پاکستان میں اب بھی بہت سے لوگ ہیں جن کے پاس اپنے ذہنی قوی کو استعمال کرنے کے مواقع نہیں ہیں۔ اس مضمون میں سر سید نے ان لوگوں کو حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ اپنی کاہلی کو دور کریں اور اپنی پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔
مضمون پر تنقید
کچھ لوگوں نے سر سید احمد خان کے مضمون پر تنقید کی ہے کہ وہ ہندوستانی معاشرے کے ایک خاص طبقے کے بارے میں بات کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سر سید نے غریبوں اور محنت کشوں کے مسائل کو نظر انداز کر دیا ہے۔ تاہم، یہ بات قابل ذکر ہے کہ سر سید نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ہندوستان میں ہر طبقے کے لوگوں کو اپنے ذہنی قوی کو استعمال کرنے کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
مجموعی طور پر، سر سید احمد خان کا مضمون "کاہلی" ایک قیمتی تحریر ہے جو آج بھی معاشرے کے لیے متعلقہ ہے-
مُشکِل الفاظ
"پُھوہڑ" کا مطلب بالکل سمجھ لیا ہے۔
یہاں کچھ اور مثالوں پر غور کریں جو اردو میں "پُھوہڑ" کے استعمال کو واضح کریں:
بچے سڑک پر کرکٹ کھیل رہے تھے اور وہ گیند اکثر پُھوہڑ پڑے ہوئے کوڑے میں چلی جاتی تھی۔ (The children were playing cricket on the street, and the ball often went into the pile of untidy garbage.)
مہمانوں کے آنے سے پہلے اس نے جلدی سے گھر کو صاف کیا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کا گھر پُھوہڑ نظر آئے۔ (Before the guests arrived, she quickly cleaned the house because she didn’t want it to look messy.)
اس نے اپنی پُھوہڑ عادات کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ ایک بہتر ملازمت حاصل کر سکے۔ (He decided to quit his slovenly habits so he could get a better job.)
I’ll extract (type out) all readable Urdu text from the image for you.
I’m keeping the wording faithful to the image, without adding or changing meaning.
---
📘 متن (Extracted Urdu Text)
سوال نمبر 1:
اس سبق کا خلاصہ اپنے الفاظ میں تحریر کیجیے۔
خلاصہ سبق
سر سید احمد خان اردو ادب کے نامور مصنف اور مصلح تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کیا اور انہیں علم کے سچے راستے کی طرف متوجہ کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اسلامی مضامین بھی تحریر کیے۔ اس لیے ان کے مضامین میں بھی اصلاحی رنگ نمایاں ہے۔
اس سبق کا بنیادی مقصد انسان کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔ جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کے لیے علم کس قدر ضروری ہے اور ترقی کا دار و مدار اسی پر ہے۔
اس سبق میں سر سید احمد خان نے یہ بات واضح کی ہے کہ علم کے بغیر انسان نہ خود کو پہچان سکتا ہے اور نہ معاشرے میں کسی قابلِ قدر مقام حاصل کر سکتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ قوم ہی ترقی کر سکتی ہے۔ بدی قوموں کو پیچھے دھکیل دیتی ہے جبکہ علم انسان کو بلندی کی طرف لے جاتا ہے۔
اس مضمون میں مصنف نے اس حقیقت کو بھی بیان کیا ہے کہ لوگ تعلیم حاصل کرنے اور اس کے فوائد سے بہت اچھی طرح واقف ہیں لیکن وہ اس کے باوجود اپنی تعلیم کو درست طور پر استعمال نہیں کرتے۔ اگر وہ شعور اور علم کو اپنی زندگی میں صحیح طور پر استعمال کریں تو ایک کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں۔ یہی تعلیم کا اصل مقصد ہے۔
جو شخص علم رکھتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا، اس کی مثال اس مرضی کی طرح ہے جس کے پاس دوا تو ہے لیکن وہ اسے استعمال نہیں کرتا۔ اگر انسان علم کو عملی زندگی میں بروئے کار لائے تو وہ اپنی تمام ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے اور قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ایک انسان اپنی محنت، علم اور عمل کے ذریعے ترقی کر سکتا ہے۔ یہی سبق ہمیں اس مضمون کے ذریعے سکھایا گیا ہے۔
---
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری
سوالوں کے جوابات :
سوال : سر سید احمد خاں کے خیال میں سب سے بڑی کاہلی کیا ہے؟
جواب : سر سید احمد خاں کے خیال میں دلی قوى کو بیکار چھوڑنا سب سے بڑی کاہلی ہے۔ ان کا ماننا یہ ہے کہ سب سے بڑی کاہلی دماغ اور ذہن کو استعمال نہ کرنا ہے۔ وہ جسمانی محنت نہ کرنے کو کاہلی نہیں بلکہ ذہنی طور پر سُست ہونے کو زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق، ترقی اور بہتری کے لیے ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کرنا ضروری ہے۔
سوال : کون سے لوگ بہت کم کاہل ہوتے ہیں؟
جواب : جو لوگ محنت مزدوری کر کے اپنا گزر بسر کرتے ہیں وہ لوگ کم کاہل ہوتے ہیں۔ لیکن سر سید احمد خان ذہنی کاہلی کو زیادہ بڑی کاہلی سمجھتے تھے۔ ان کے مطابق، جسمانی محنت کے ساتھ ساتھ ذہنی طور پر فعال رہنا اور سیکھنے کی کوشش کرنا بھی ضروری ہے۔
سوال : انسان کس حالت میں کاہل اور بلکل حیوان صفت ہو جاتا ہے؟
جواب : جب انسان اپنے دلی قوی کو بیکار چھوڑتا ہے تو وہ سب سے بڑا کابل اور حیوان صفت ہو جاتا ہے۔
سوال : اگر انسان اپنے دلی قوی کو بیکار ڈال دے تو اس کا کیا حال ہو گا؟
جواب : اگر انسان اپنے دلی قوی کو بیکار ڈال دے تو وہ نہایت کاہل اور وحشی بن جاتا ہے۔
سوال : ہماری قوم کی حالت کس طرح بہتر ہو سکتی ہے؟
جواب : جب تک وہ اپنے دل کو بیکار پڑار ہنا نہ چھوڑ دے گی اس وقت تک ہماری قوم کی حالت بہتر نہیں ہو سکتی۔
سوال نمبر 3: جملے پورے کیجیے۔
• 1۔ روٹی پیدا کرنا اور پیٹ بھرنا ایک ایسی چیز ہے (جس کے لیے محنت کی جاتی ہے اور ہاتھ پاؤں کی کاہلی چھوڑ دی جاتی ہے)۔
• 2۔ ہر ایک انسان کو لازم ہے کہ (اپنی اندرونی قوتوں کو زندہ رکھنے کی کوشش میں رہے اس کو بے کار نہ چھوڑے)۔
• 3۔ ہم قبول کرتے ہیں کہ ہندوستان میں ہندوستانیوں کے لئے ایسے کام بہت ہیں (جن میں ان کی دلی قومی اور قوت عقلی کو کام میں لانے کا موقع ملے)۔
• 4۔ ہم اپنے دوستوں سے یہ کہتے ہیں (کہ ہمارے ملک میں جو ہم کو اپنی قوی دلی اور قوت عقلی کو کام میں لانے کا موقع نہیں مل رہا ہے اس کا سبب کا ہلی اختیار کرنا ہے )۔
• 5۔ جب تک ہماری قوم سے کاہلی یعنی دل کا بریکار پڑارہنانہ چھوٹے گا (اس وقت تک ہم اپنی قوم سے بہتری کی توقع نہیں کر سکتے۔
سوال نمبر ٥: جملوں میں استعمال کیجیے ۔۔
1. وہ ایک قوی آدمی ہے اور مشکل حالات کا مقابلہ بخوبی کر سکتا ہے.
2. ہم نے کچھ دن سمندر کے کنارے بسر کیے۔
3. آج کل وہ بہت مصروف ہے اس لیے ملنا مشکل ہے۔
4. آپ کو اس کام کے لیے مستعدي رہنا چاہیے۔
5. مجھے اس کی جلد واپسی کی توقع ہے۔


Comments
Post a Comment